مالیگاوں کی گندی سیاست کی نالی میں رینگتے ھوئے صحافی

مالیگاوں کی صحافت کی تاریخ سے اگر مذھبی اخبارات کو ایک طرف کرکے صحافت کا جائزہ لیا جاۓ تو اردو ھفت روزہ یوتھ آرگن کے علاوہ تمام اخبارات بشمول مراٹھی اخبارات کے، سب کے سب ان پڑھ، جاہل اور رشوت/کمیشن خور سیاست دانوں کی مدح سرائی میں ان کے تلوے چاٹتے ملیں گے۔ عزّٹ نفس اور جرات نام کی کوئی خوبی مقامی صحافیوں میں پائی نہیں جاتی۔ ایڈیٹر یوتھ آرگن کے علاوہ ھر صحافی کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے کھونٹھے سے بندھا ملتا ھے۔ یہ نام نہاد صحافی کسی وجہ سے اپنی رسّی توڑواتا بھی ھے تو جاکر کسی دوسری سیاسی پارٹی کے کھونٹھے میں اٹک جاتا ھے اور اس طرح اس کا پیٹ بھرتے رہتا ھے۔ صحافت کے نام پر جسم فروشی کی طرح قلم کی آبرو کو بیچنے والے صحافی کا بہروپ لیئے اپنی زندگی گزار رھے ہیں اور بیت المال لوٹنے والے سیاست دانوں کی مدح سرائی میں رطب ا لسان ہیں۔ مقامی سیاست دانوں کی پریس کانفرنس جنگل میں مور کے ناچنے کی مثال ھوتی ھے ۔ ھر سیاست داں ( ان کو تو سیاست داں کہنا بھی غلط ھے یہ صرف کمیشن خور اور لٹیرے ہیں) اپنی پریس کانفرنس میں صرف اس کی حمایت میں لکھنے والے صحافیوں کو بلاتا ھے۔ بعض دفع تو صرف تیار شدہ پیڈ نیوز دے دی جاتی ھے اور اس کو پریس کانفرنس کے نام سے شائع کردیا جاتا ھے اور ایڈیٹر یوتھ آرگن کو تو کسی بھی نام نہاد پریس کانفرنس میں بلایا ھی نہیں جاتا کیونکہ ان کے گلے میں وفاداری کی پہچان کا پٹّہ نہیں ھے۔ لیکن ھر سیاہ رات کی کوکھ سے ایک سویرا جنم لیتا ھے اور وہ وقت اب آ گیا ھے۔ خاندانی سیاست کا اور تلوے چاٹنے والی صحافت کا خاتمہ اب قریب ھے۔